Selected:

Taar e Ankboot

 495

Taar e Ankboot

 495

Add to Wishlist
Add to Wishlist
SKU: 9690009346 Categories: ,

Description

سارے گھر ایک کے بعد ایک ٹوٹ رہے ہیں اور اس سب کچھ ٹوٹ جاتا ہے۔ حد یہ کہ انسان نام کا چوکڑی کا گھر بنا وہ بھی ٹوٹا اور بکھرا۔ اس کی انا بھی ٹوٹی۔ سارے گھر تمام ہوۓ اور میرے سر پر فقہ ایک تار عنکبوت اٹک رہا ہے خیال کے تسلسل کا۔ اور اب میرا خدا مجھ سے پوچھ سکتا ہے بے شک ڈانٹ کر کہ تم جو بیروت میں مکینیکل انجینرنگ پڑھانے پر مامور ہو کر آئے تھے، اب یہاں صابرہ کی مسجد میں کیسے کھڑے ہوتو میں بھی ڈٹ کر جواب دوں گا کہ ”حضرت آپ نے وہ کڑیاں بنانا کیوں چھوڑ دیں جو غاروں کے منہ پر اس قدر مضبوط گھر بنا دیا کرتی تھیں کہ کبوتر اس میں انڈے دے جاتے ہیں اور اب یہاں بے حد و حساب مکڑیاں ہیں کہ جن کے گھر ٹوٹ گئے ہیں اور وہ سرگرداں پھرتی ہیں ۔ تو اب آپ سوچیں اور انصاف کریں کہ مکڑیوں کے گھر ٹوٹ چکے ہوں تو کیا بندے پر لازم ہے کہ وہ یونیورسٹی کی ائیر کنڈیشنڈ اور اسٹریم لائنڈ کلاسوں میں بیٹا تھیوریاں پڑھاتا رہے اور شامیں خوشبودار قہوے کی خوشبوؤں سے معمور ریستورانوں میں بیٹھ کر خوش گپیوں میں مصروف گزارے اور لبنان اور بیروت کے حسن سے آنکھیں سینکتا رہے۔ خواب میں یہاں صابرہ کی مسجد میں (اوہ سوری سر ) ایکسکیوزی پلیز! اب قیام ختم ہو رہا ہے اور ہمیں رکوع کی حالت میں جاتا ہے۔۔

Additional information

Weight 100 g
Authors

Binding

Language

Publisher

Quick Navigation
×
×

Cart