Your cart is empty now.
فکشن ایک عرصے سے میری چائے کی پیالی نہیں ہے لیکن علی اکبر اتنا چالاک آدمی ہے کہ پہلے اس نے بہلا پھسلا کر مجھے کوئی تین چار سو صفحات پر مشتمل ناول ’’نولکھی کوٹھی‘‘ پڑھوا دیا اور اب یہ افسانے، لیکن اس کا ایک نقصان یہ بھی ہوا کہ اب میں محسوس کرتا ہوں کہ مجھے فکشن بھی پڑھنا چاہیے ورنہ میں نے شاید آخر میں انتظار حسین کا ناول ’’آگے سمندر ہے‘‘ اور مستنصر حسین تارڑ کا ’’بہائو‘‘ پڑھا تھا اور اب مجھے مزید فکشن پڑھنا پڑے گا۔
یعنی ... ^ ایں ہم اندر عاشقی بالائے غم ہائے دگر۔ اس سمارٹ سے مجموعے میں 13 افسانے شامل ہیں۔ یہاں فرداً فرداً افسانوں کا تجزیہ یا جائزہ لینا مشکل ہے، ماسوائے اس کے کہ مصنف کے مشاہدے کی صورتِ حال کیا ہے اور اس میں بیان کرنے کی طاقت اور صلاحیت کس حد تک ہے۔ علی اکبر ناطق کو جہاں زبان پر خاصا عبور حاصل ہے وہاں ان کا طرزِ بیان بھی عام فہم اور دلکش ہے، اور قاری آخر تک افسانے کی گرفت میں رہتا ہے، اور یہ خوشی کی بات ہے کہ کہانی تجرید کی بھول بھلیوں سے نکل آئی ہے اور اس میں کہانی پن عود کر آیا ہے، اور قاری افسانے سے باقاعدہ لطف اندوز ہونے لگا ہے، بشرطے کہ یہ پھر اسی طرف واپس چلی جائے۔ علی اکبر ناطق نے جس مختصر عرصے میں اپنی پہچان قائم کی ہے اور بڑے بڑوں سے اپنا اعتراف کروایا ہے وہ خوش آئند بھی ہے اور حیرت انگیز بھی۔ پاکستان میں شاعری کے حوالے سے معاملات اوپر نیچے رہتے ہیں اور اپنے پائوں پر بھی کھڑے ہوتے نظر آتے ہیں، تاہم ایسا لگتا ہے کہ ز یادہ تر منظر فکشن نے سنبھال رکھا ہے اور اس کتاب کو ایک مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ اس سعیٔ مسعود پر میں اس نوجوان کو مبارک باد پیش کرنے میں کوتاہی نہیں کرنا چاہتا ...^ ایں کار از تو آید و مرداں چنیں کنند
(ظفر اقبال)
| Year | 2020 |
| ISBN | 9789696623014 |
| Binding | Hardcover |
| Author Name | By Ali Akbar Natiq |
| Categories | Best selling products , Fiction & Literature , New products , Recently Added |