Shopping Card

Your cart is empty now.

Shopping Card

Your cart is empty now.

Aasman Dar Aasman (Pictorial Edition)
Rs.1,995.00

Availability:

In Stock

Quantity:

’’آسماں در آسماں‘‘ کی پہلی خوبی، اس کی انفرادیت ہے۔ دوسری یہ کہ اسے ڈاکٹر شاہد صدیقی نے قلم بند کیا ہے۔ ادق اور پیچیدہ موضوعات پر رَواں رَواں، سادہ و شگفتہ اندازِ بیاں میں انھیں کمال حاصل ہے۔ ’’آسماں در آسماں‘‘ میں شامل نام وراں نے مجبوری اور بے دلی سے ہجرت کی تھی۔ ہندوستان جاکے آباد ہوگئے۔ بہت عزّت اور نام کمایا لیکن اپنے آبائی گھر اور شہر چھوڑ جانے کی خلش تا دمِ آخر برقرار رہی۔ اِن ناقابلِ فراموش، یادگارِ زمانہ شخصیات میں ہر ایک پر کتابیں لکھی جا سکتی ہیں، لکھی بھی گئی ہیں۔ لیکن جس جامع و اکمل اختصار سے ڈاکٹر شاہد صدیقی نے انھیں ایک کتاب میں یک جا اور چشم گزار کیا ہے، انہی کا حصہ، انہی کا خاصہ ہے۔
(شکیل عادل زادہ)
لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو ہماری کئی نسلیں یاد رکھیں گی کہ جس نے ایک ہی صحن کے پیڑ پودوں اور پھولوں کو اپنی شمشیرِ آبدار سے کاٹ کر تقسیم کر دیا اور پلک جھپکتے ہی سارا منظر بدل گیا۔ ’’چلی سمتِ غیب سے اک ہوا کہ چمن ظہور کا جل گیا‘‘ کتنے ہی دل گزیدہ ہمیشہ کے لیے اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے جن کے دل آخری وقت تک اپنے چھوڑے ہوئے گھروں، محلوں اور دوستوں کے لیے دھڑکتے رہے۔ یہ انہی زمین زادوں کی کہانیاں ہیں جن کی زندگیوں میں عزت، دولت اور شہرت ہونے کے باوجود ایک کسک باقی رہی۔ شاہد صدیقی نے ان دل زدگان کی داستان کو اپنے سحر کار قلم سے امر کر دیا ہے۔ شاہد صدیقی کی نثر کا خاص اسلوب ہے کہ وہ جس موضوع پر خامہ فرسائی کرتے ہیں کسی ماہر فن زردوز کی طرح موتی اور مرجان ٹانکتے چلے جاتے ہیں۔ ’’وہ کہیں اور سنا کرے کوئی‘‘ میرے خیال میںیہ اپنی نوعیت کی منفرد کتاب ہے جس میں تاریخ، ادب، آرٹ، شاعری، موسیقی اور دل فریب بیانیہ یک جا ہو گئے ہیں۔
(زاہدہ حنا)
شاہد صدیقی کی نثر میں جو تاثیر اور تہذیبی رچاؤ ہے، اُس کا ایک زمانہ گرویدہ ہے۔ ہندوستان کی تاریخ کے تہذیبی و ثقافتی مزاج کے طلسم اور فسوں کو وہ اپنی روح میں بسائے ہوئے ہیں اور اُسی ساحری میں ہمیں بھی شامل کر لیتے ہیں۔ شاہد صدیقی ایک فطری قصہ گو ہیں جن کے تمام کردار اُن کے اپنے زمانوں کی مٹی میں گُندھے ہوئے ہیں۔ یہ کون لوگ ہیں جو نئے جہانوں کو تخلیق کرنے کے ساتھ ساتھ کئی صدیوں کو اپنے احساس اور بصیرت سے معطر کیے رکھتے ہیں۔ بلراج ساہنی سے دلیپ کمار تک اور خوشونت سنگھ سے بلونت سنگھ تک اور امرتا پریتم سے شیلندر تک۔ شاہد صدیقی نے علوم و فنون کے ان پُر اسرار نابغوں کی زندگیوں میں شریک ہونے کا ہنر آزمایا ہے۔ اب آپ بھی ان کی طلسم کاری کے تجربے کا حصہ بن جائیں۔
(اصغر ندیم سید)
شاہد صدیقی کی لازوال باکمال تحریروں کا مجموعہـ ’’آسماں در آسماںـ‘‘ میری روح کے لیے کسی تحفے سے کم نہیں۔ کیسے کیسے روشن ستارے اس کہکشاں کا حصّہ ہیں۔ سنیل دت، گلزار، مدن موہن اور میرا پسندیدہ اداکار دلیپ کمار جس کی حویلی ابھی تک پشاور میں ہے۔ پرتھوی راج اور اس کا بیٹا راج کپور جو رہتے تو پشاور میں تھے لیکن جن کا آبائی گھر میر ے شہر لائل پور کے نزدیک سمندری میں تھا۔ کامنی کوشل جو کنیئرڈ کالج میں پڑھتی تھی اور سائیکل پر کالج آتی جاتی تھی اور جو میری پھوپھی جمیلہ کی سہیلی تھی۔ اور پھر ساحر، شیلندر، اور آنند بخشی۔ کیسے کیسے لوگ تھے جن کے دم سے ایک جہان آباد تھا۔ ’’آسماں در آسماں‘‘ انھیں لوگوں کی داستان ہے۔
یہ کتاب سفر کا ایک پڑاؤ ہے۔ شاہد صدیقی کا کہنا ہے کہ اس کی اگلی کتاب ان فن کاروں کے حوالے سے ہو گی جنھوں نے تقسیم کے بعد ہندوستان سے پاکستان آنے کا فیصلہ کیا اور یہاں آکر فن کی دنیا میں نئے رنگ بکھیرے۔ یوں یہ داستان یہاں ختم نہیں ہو گی بلکہ اور آگے بڑھے گی۔
آخر میں مجھے یہ کہنا ہے، میرے صحافتی کیریئر میں ’’آسماں درآ سماں‘‘ وہ پہلی کتاب ہے جسے لکھنے والا ہی نہیں، شائع کرنے والا ادارہ بک کارنر جہلم یعنی امر شاہد اور گگن شاہد بھی مجھے بہت عزیز ہیں۔
(حسن نثار)

Year 2025
ISBN 9789696625889
Binding Hardcover
Author Name By Shahid Siddiqui
Categories Best selling products , NEW ARRIVALS , New products

Customer Reviews

Be the first to write a review
0%
(0)
0%
(0)
0%
(0)
0%
(0)
0%
(0)
Translation missing: en.general.search.loading