Your cart is empty now.
مجال ہے جو حاشر ارشاد کو پڑھتے ہوئے مسکراہٹ کا کوئی امکان کہیں پیدا ہو۔ طنز کا نشتر البتہ اکثر آزماتے ہیں۔ اہلِ دل اس مقام سے گزرتے ہیں تو ایسا منہ بنائے ہوئے گویا کسی نے کلہ چِیر کے لیموں نچوڑ دیا ہے۔ حاشر ارشاد اپنی افتاد میں بنے بنائے مائیکل اینجلو ہیں۔ ایک بڑا ہتھوڑا حقائق اور شواہد کا تھام رکھا ہے۔ اور اس کی پے در پے ضربوں سے دلیل کے تیشے کو اس طرح سنگین چٹانوں کے دل میں اتارتے چلے جاتے ہیں کہ خدا کی پناہ۔ حاشر ارشاد نے ہم عصر اُردو نثر میں جلال کا رنگ پیدا کیا ہے۔ پڑھنے والے کی مجال نہیں کہ دم مار سکے۔ سانس روک کے پڑھنا پڑتا ہے۔ نامعلوم کس قاموس المعارف سے استفادہ کیا ہے کہ حاشر ارشاد کا قلم ’’زکنارِ ما، بکنارِ ما‘‘ طوفان اٹھاتا ہوا نکل جاتا ہے۔ اب آپ میں ہمت ہے تو سامنے آئیے۔ اور واللّٰہ کس میں ایسا حوصلہ کہ سر پر توا باندھ کے حاشر ارشاد کے سامنے پڑے۔ فالحمدللّٰہ۔ (وجاہت مسعود)
ہمہ گیر بحران کے اس گنجلک پس منظر میں بھی مگر آپ کو روشنی اور حرارت کے حوالے مل جائیں گے، جیسے حاشر ارشاد کا یہ بیانیہ جو آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ یہ بیانیہ آپ کو تناؤ کے دورانیے سے نکال کر ان منطقوں کی طرف لے جائے گا جہاں نہ لوہے کے پھاٹک ہیں، نہ اونچی فصیلیں، نہ بارود کی عذر خواہی۔ یہ وہ زمرے ہیں جہاں خاموشیاں سانجھ اور جڑت کی خوشبو سے مہکتی رہتی ہیں اور پُراسرار راتوں نے بے چین سینوں کے لیے روشن صبحوں کے سندیسے لکھ رکھے ہیں۔ (فرخ یار)
حاشر ارشاد کا نام ایک خاص تاریخی اور لسانی تہذیب میں گندھا ہوا ہے، سو وہ اپنے نام کی نسبت سے اپنی تحریر کے ذریعے پہلے لوگوں کو متوجہ اور اکٹھا کرتے ہیں اور پھر ان کی فکری تربیت کرتے ہیں، انھیں علمی سوال اٹھانے پر آمادہ کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں رواج یہ ہے کہ ہم اپنے بیشتر وراثت میں ملے ہوئے یا روایتی نظریات پر قائم رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اگر جدید حقائق اور تازہ فکر ان سے متضاد ہوں تو ہم جدید حقائق اور تازہ فکر کو مسترد کرنے میں لمحہ نہیں لگاتے، دوسری جانب ہمارے جدید عقلیت پسند ساتھی روایتی نظریات کے سیاق وسباق کو سمجھے بغیر انھیں رد کرنے میں تامل نہیں کرتے۔ اپنے پورے تہذیبی ورثے کو سمجھ کر اور اس میں موجود خامیوں کی منطقی نشان دہی کرکے خرد افروزی اور روشن خیالی کے نئے باب وا کرنا حاشر کو ممتاز کرتا ہے۔ زیرِنظر مضامین میں شامل کسی بھی رائے سے قاری کے اختلاف کرنے کا حق محفوظ ہے، مگر یہ تحریریں بلا شبہ انسان دوستی اور علم پروری کو سماج میں غالب لانے کے سفر میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ (حارث خلیق)
جن معاشروں میں رائج افکار، بااثر شخصیات، معاشرتی رشتوں اور انسانی جذبات کو باریک بینی، غیر جانبداری اور مثبت تنقیدی زاویوں سے دیکھنے والے ناپید ہوتے جائیں وہاں رفتہ رفتہ عامیانہ باتیں عقیدہ بن جاتی ہیں۔ اوسط سے بھی کم درجے کے لوگ دیوتا، معاشرتی رشتے زنجیراور انسانی جذبات بوجھ۔ حاشر ارشاد صاحب کی طبیعت میں سنجیدہ اور ذہین سوال پوچھے بغیر کسی بھی بات پر اعتقاد لے آنے کا میلان سِرے سے ہی موجود نہیں۔ وہ وسیع المطالعہ بھی ہیں، حسّاس بھی اور منطقی اور مدلل گفتگو کے فن سے پوری طرح واقف بھی۔ اُن کی تحریر میں جاذبیت بھی ہے اور روانی بھی۔ اُن کے مضامین کا مجموعہ نثری دلکشی اور موضوعات کے تنوّع اور دلچسپی کے باعث ایک عمدہ کاوش تو ہے ہی، لیکن میرے نزدیک اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ یہ مجموعہ بےباکی اور خلوص سے روشن خیالی اور معاملات کی تہہ تک پہنچنے کی تحریک دیتا ہے۔ ہمارے معاشرے کو ایسے عاقل اور متجسّس سوچنے والوں اور ان کی کتابوں کی اشد ضرورت ہے۔ (اسامہ صدیق)
| Year | 2026 |
| ISBN | 978-969-662-653-4 |
| Binding | Hardcover |
| Author Name | By Hashir Irshad |
| Categories | Best selling products , Literature in Urdu , NEW ARRIVALS , New products |