{"product_id":"darhi-wala-5th-edition-deluxe","title":"Darhi Wala - 5th Edition - Deluxe","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eداڑھی والے میں بظاہر نہ تو آپ کو کوئی فلسفی یا نقاد نظر آئے گا نہ ہی مفکر یا دانشور۔ آپ روانی میں اس سے گزر جائیے تو یہ لذت بھری نثرنگاری بہت عام سے موضوعات پر دلچسپ عبارت آرائی معلوم ہو گی۔ لیکن جب اس تجربے سے گزر جائیے تو ایک لحظہ داڑھی والے کی سِریت پر غور ضرور کیجیے۔ آپ پر کھلے گا کہ یہ تحریریں ایک نادیدہ لڑی میں پروئی ہوئی ہیں۔ ایک ایسی لڑی جو خود داڑھی والے کے علم میں بھی نہیں، جسے وہ چاہے بھی تو نہیں چھیڑ سکتا۔ اس لچک دار لڑی کا ایک سرا خیال کے سرچشمے سے جڑا ہے تو دوسرا حرف و تصویر کی سیراب زمینوں سے۔یہ لڑی قاری کو یوں جکڑتی ہے کہ وہ قراَتِ متن میں بہتا تو ہے لیکن بہاؤ کو محسوس نہیں کر سکتا۔ یہی آکسیجن جیسی فطری نثر داڑھی والے کا کمال ہے۔ وہ اپنے نثری کُل میں اجزا سے بڑھتا ہی نہیں بلکہ اس کُل ہی کی غیر عمداً تخلیق دراصل اس کا نثری کارنامہ ہے۔ داڑھی والا اتنی ہی عام زندگی جیتا ہے جتنا ہم میں سے کوئی بھی لیکن اس بظاہر عام سے تجربے کی تہہ میں چھپی بھرپور کیفیات کو برآمد کرنا کسی کسی کو ہی نصیب ہوتا ہے۔ زندگی کی intellectualization تو بہت سے لوگ کرتے ہیں جنھیں عرف عام میں دانشور کہا اور مانا جاتا ہے۔ زندگی کا خالص بیان وہی کر سکتا ہے جسے تہیں کھول کر اسے صفحات کی زمین پر بچھانا آتا ہو۔ تو بس حسنین جمال کی ’’داڑھی والا‘‘ کھولیے اور حیاتِ محض کی اَن گنت پرتوں کا تجربہ ایسی لطافت سے کیجیے، جیسے ابھی ایک ساعت قبل آپ نے سانس لیا اور آپ کو تجربے کی پیچیدگی کا اندازہ بھی نہ ہوا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(عاصم بخشی)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eحسنین جمال پچھلے چند برسوں میں سامنے آنے والے اُردو کے کالم نگاروں میں سے ایک نمایاں نام ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ حسنین نے اتنے تواتر کے ساتھ ایسی عمدہ تحریریں لکھی ہیں، جن کی دوسری مثال نہیںملتی۔ سو فیصد یا چلیں تھوڑا محتاط تخمینہ لگاتے ہیں، پچانوے ستانوے فیصد اچھے کالم لکھنا بہت کم لوگوں کے حصے میں آیا۔ میں نے حسنین جمال کی بیشتر تحریریں پڑھی ہیں، ان کے دو تہائی سے زیادہ کالم\/بلاگ ایسے ہیں جن پر رشک آیا۔ یہی خیال آیا، کاش اس موضوع پر مَیں لکھ پاتا، مگر پھرسوچا کہ جس لطافت، بے ساختگی اور دلکشی سے حسنین جمال نے لکھا، وہ انھی کا خاصا ہے۔ حسنین جمال کی تحریر میں ایک خاص انداز کی ندرت اور اچھوتا پن ہے۔ ان کی نثر میں کمال درجہ بےساختگی ہے، یوں لگتا ہے جیسے مصنّف سامنے بیٹھا اپنے مخصوص چہکتے انداز میں گُل فشانی کر رہا ہو۔ حسنین نے کالم نگاری کی روایتی، پرتکلّف زمین میں نئے تجربے کیے۔ انھوں نے بلاگ اور کالم کی درمیانی دیوار گِرا کر ان کا حسین امتزاج بنایا۔ ڈکشن ان کی اپنی ہے، بہت سے ایسے الفاظ اور جملے بھی استعمال کر لیتے ہیں جو ہم عام طور پر بولا کرتے ہیں، لکھتے نہیں۔ مجھے حسنین جمال کے یہ لسانی تجربے، نت نئے موضوعات کا انتخاب، انوکھے خیالات اور پھر ان پر نہایت عمدگی سے لکھی تحریریں بہت پسند ہیں۔ ان میں سے بعض سے مجھے اختلاف ہے ، مگر جس سلیقے اور شائستگی سے حسنین نے انھیں بیان کیا، وہ متاثر کن ہے۔ خواہش تھی کہ حسنین جمال اپنی تحریروں کا مجموعہ شائع کرے کہ ان میں سے بہت سوں کے تراشے اپنے پاس رکھنا چاہتا تھا۔ کتاب کی شکل میں یہ سرمایہ محفوظ ہوگیا۔ یہ کتاب اس قابل ہے کہ کسی بھی صاحبِ ذوق کی لائبریری کا حصّہ بن سکے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(عامر خاکوانی)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eحسنین جمال کی شکل کارل مارکس سے اتنی ملتی ہے کہ جب میں نے پہلی مرتبہ ان کو دیکھا تو لگا کہ میرے سامنے مارکس ہی بیٹھا ہے۔ خیالات بھی موصوف کے ویسے ہی انقلابی ہیں۔ تحریروں میں البتہ ٹھہرائو اور چاشنی ہے۔ زیرِنظر کتاب کے بیشتر مضامین میں نے اسی وقت پڑھ لیے تھے جب یہ ویب سائٹ پر شائع ہوئے تھے۔ ایک تحریر تو اب تک نہیں بھولتی ’’محرّم تو سب کا ہوتا تھا‘‘، حسنین جمال نے قلم توڑ دیا تھا۔ پڑھ کر بےساختہ فون کیا اور داد دِی۔ حسنین منکسرالمزاج ہے، شرماتے ہوئے شکریہ ادا کرتے ہوئے بولا، ’’یہ نو مضامین کی سیریز کا حصہ ہے جو محرّم کے حوالے سے مختلف موقعوں پر لکھے۔ یہ مجموعہ الگ سے شائع ہو گا۔‘‘ کبھی محرّم پر لکھنے بیٹھتا ہوں تو حسنین جمال کی یہ تحریر یاد آ جاتی ہے، خدایا اس سے بہتر اب کیا لکھا جائے گا۔ کتابوں کے سرورق پر رائے عموماً مبالغہ آرائی پر مبنی ہوتی ہے مگر اسے مبالغہ نہ سمجھا جائے۔ یہ سچ ہے کہ حسنین جمال نوجوان لکھنے والوں میں صف اوّل کے لکھاری ہیں۔ صرف اِن سے ایک گلہ ہے کہ اپنی تحریر میں بعض اوقات غیرضروری طور پر انگریزی کے الفاظ استعمال کر جاتے ہیں، شاید یہ آج کے دَور کی ضرورت ہو، مگر میں اس ’کارل مارکس‘ کو یہی مشورہ دوں گا کہ اس سے اجتناب کرے اور اگر کہیں انگریزی کا لفظ لکھنے کی ضرورت ہو تو اسے یوں استعمال کرے جیسے یار لوگ با دلِ نخواستہ مانع حمل کے نسخے استعمال کرتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(یاسر پیرزادہ)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"ferozsonspk","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44494566195283,"sku":null,"price":2000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0605\/4576\/1363\/files\/697caf6689c0a1769779046.jpg?v=1776169278","url":"https:\/\/ferozsons.com.pk\/products\/darhi-wala-5th-edition-deluxe","provider":"ferozsonspk","version":"1.0","type":"link"}