{"product_id":"dahshat-gard-shahzada","title":"Dahshat-gard Shahzada","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003e’’دہشت گرد شہزادہ‘‘ الذوالفقار کی کارروائیوں کی مربوط داستان ہے۔ یہ مسلح گروہ مرتضیٰ بھٹو نے اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کا انتقام لینے کے لیے تشکیل دیا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم تھے جنھیں جنرل ضیاء الحق نے1977ء میں معزول کیا اور پھر قتل کرا دیا۔ ’’الذوالفقار‘‘ کا قیام 1981ء میں عمل میں آیا اور 1996 ء میں مرتضیٰ بھٹو کو قتل کیے جانے تک اس کا وجود برقرار رہا۔ اس کی تندوتیز سرگرمیوں کا دور 1980ء کے عشرے کا ابتدائی اور درمیانی عرصہ تھا۔ راجہ انورنے اس تنظیم کی جن دہشت گرد کارروائیوں کاذکر کیاہے ممکن ہے انھیں پڑھتے ہوئے مغرب کا قاری اضطراب محسوس کرے لیکن مغرب کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ وہ خود ان دنوں جنرل ضیا جیسی استبدادی حکومتوں کاپشت پناہ تھا اور خود ایسے دہشت پسند گروہ تشکیل دے رہا تھا جن میں افغانستان میں بھیجے جانے والے گروہ شامل تھے۔ ان تشدد پسند گروہوں کی کارروائیاں الذوالفقار سے کہیں زیادہ سفاک اور تباہ کن تھیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجنرل ضیاء الحق کاگیارہ سالہ آمرانہ دور (1977-88ء) پاکستان کی المناک تاریخ کا انتہائی گھناؤنا باب ہے۔ اس دورمیں ملک کودہشت وبربریت ملی۔ حکمران طبقے نے ایک ناقابلِ گرفت ہیروئین مافیا کو جنم دیا جو آج بھی ملک کی سیاسی اور سماجی زندگی کو جکڑے ہوئے ہے۔ ایک منتخب حکومت کا تختہ الٹنے اور ذوالفقارعلی بھٹوکو تختۂ دار پہ پہنچانے کے نتیجہ میں ملک میں سیاسی و سماجی انحطاط کا آغاز ہوا۔ اس کے ساتھ ساتھ ’’شہادت‘‘ نے بھٹو خاندان کو ایسا’’ہالہ‘‘ مہیا کیا جس کی آب وتاب حال ہی میں ختم ہوئی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eبھٹو خاندان... سندھ کا جاگیردار خاندان ہے جہاں کسانوں اور ہاریوں کو زرعی غلام سمجھا جاتا ہے اور جہاں جاگیرداری محض تاریخ کی کتابوں تک محدودنہیں۔ سندھی وڈیرہ ایشیا کا انتہائی سفاک اور ظالم جاگیردار ہے۔ اس کی اپنی دنیاہوتی ہے جس میں رہنے والوں کی زندگیاں اس کے رحم و کرم پر ہوتی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eذوالفقار علی بھٹو اسی دنیا میں پیدا ہوئے۔ تاہم تقسیم سے پہلے ان کا زیادہ تر وقت بمبئی میں گزرا۔ انھوں نے آکسفرڈ اور ہارورڈ میں تعلیم حاصل کی اور بیرسٹر بن گئے۔ وہ اپنی زندگی کے تیس کے عشرے میں تھے کہ پاکستان کے پہلے فوجی آمر نے ان میں موجود ذہین اور چالاک فرد کو پہچان لیا۔ 1956ء میںاس نے انھیں مرکزی کابینہ میں لے لیا۔ ترقی کے زینے پرقدم رکھنے کے بعد انھوںنے کبھی پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔1965ء میں وہ پاکستان کے وزیرِ خارجہ تھے۔ 1966ء میں ایوب خان نے انھیں برطرف کردیا جو اَب خود کوترقی دے کرفیلڈ مارشل بن چکا تھا۔ بھٹو نے برطرفی کے بعد اپنی سیاسی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی تشکیل دی۔ جب پاکستان کے طلبا ایوب آمریت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے تو مغربی پاکستان میں بھٹو اِن کے لیڈر بن گئے۔ انھیں مختصر سے عرصہ کے لیے قید بھی کیا گیا۔ عوامی مقبولیت نے انھیں کہیں سے کہیں پہنچا دیا۔عوام سے ان کا تعلق اور ربط وسیع تر ہو گیا۔ انھوں نے عوام سے روٹی کپڑا اور مکان کا وعدہ کیا۔ انھوں نے دھمکی دی کہ امرا کے محل چھین کر انھیں غریبوں کے لیے ہسپتالوں میںتبدیل کر دیا جائے گا۔ ایک ایسا عوامی جوش و خروش ملک میں پھیل گیا جو پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا تھا۔ جب طالب علموں اور محنت کشوں کی شورش نے بالآخر ایوب حکومت کا تختہ اُلٹ دیا تو انتخاب منعقد ہوئے جس میں بھٹو کی پارٹی نے مغربی پاکستان میں اکثریت حاصل کر لی۔ پنجاب جیسے اہم صوبے میں تمام بڑے بڑے جاگیرداروں کو شکست ہو گئی۔ عوام کی توقعات بہت بلند تھیں۔ لوگ اب اپنے خوابوں کی تعبیر پانے کے منتظر تھے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایوب کابینہ سے برطرفی کے بعد بھٹوجب عوامی رابطہ مہم پر نکلے تو راجہ انور کی ان سے ملاقات ہوئی۔ راجہ انور راولپنڈی کا ایک سرگرم طالب علم رہنما تھا۔ وہ بھٹو کے عوامی انداز سے بہت متاثر ہوا۔ راجہ انوربھی لاکھوں پاکستانیوں کی طرح سمجھتا تھا کہ یہ عالی نسب سیاستدان ہی سماجی انقلاب لائے گا۔ 1968-69ء میں ایک ہیجان نے پورے ملک کو اپنی گرفت میں لے رکھا تھا۔ اسے کوئی بھی مثبت سمت دی جا سکتی تھی لیکن امید کے یہ دن مشرقی پاکستان کے بنگالیوں کے خون میں بہہ گئے۔ 1971ء میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد بھٹو مغربی پاکستان... نئے پاکستان... میں اقتدار میں آ گئے۔ چھ سالہ اقتدار کے بعد انھیں ان کے اپنے منتخب کردہ آرمی چیف جنرل ضیاءالحق نے رُخصت کر دیا۔ عالی نسب ’’بھٹو‘‘ اور ’’معمولی‘‘‘ ضیاء الحق کے درمیان اس ٹکراؤ کو راجہ انور نے بہت خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے۔ بھٹو نے اپنے ساتھیوں کی مخالفت کے باوجود ضیا کو چھ جرنیلوں پہ ترقی دے کرآرمی چیف بنایا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ ضیا سیدھا سادہ شخص ہے۔ اسے آسانی سے استعمال کیا جا سکتاہے وہ یہ سمجھنے میں ناکام رہے کہ ’’نئے پاکستان‘‘ میں فوج مرکزی سیاسی ادارہ بن چکی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"ferozsonspk","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44494430502995,"sku":null,"price":1500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0605\/4576\/1363\/files\/67c995df6c4211741264351.jpg?v=1776163554","url":"https:\/\/ferozsons.com.pk\/products\/dahshat-gard-shahzada","provider":"ferozsonspk","version":"1.0","type":"link"}